رقیہ، شرک، توبہ، آگاہی
وہ محفل جس میں شیطان ناچتا ہے
ساز اور ناچ کے بیچ کوئی ایک گر پڑتا ہے، جسم کانپنے لگتا ہے — اور آس پاس کے لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ شیخ کی نصیحت ٹھیک یہیں سے متعلق ہے۔
ساز اور ناچ کے بیچ کوئی ایک گر پڑتا ہے، جسم کانپنے لگتا ہے — اور آس پاس کے لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ شیخ کی نصیحت ٹھیک یہیں سے متعلق ہے۔
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
عرب ممالک میں ان محفلوں کے نام ہیں — کوئی زار کہتا ہے، کوئی سامری، کوئی خابطی۔ ساز بجتے ہیں، ناچ چلتا ہے، پھر کوئی ایک گر کر جھٹکے کھانے لگتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں — پہلے لوگ یہ سب دیکھ کر ڈر جاتے تھے، دور ہٹ جاتے تھے۔ اب لطف اٹھاتے ہیں۔ ہنس کر کہتے ہیں، جنات بھی تو ہمارے ساتھ ناچ رہے ہیں۔ اور جو گر گیا ہے، اسے مزید اکساتے ہیں۔
ہمارے ملک میں بھی یہ منظر اجنبی نہیں — مزاروں اور عرسوں کا ناچ، حال کی کیفیت، اور ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر جنات کے بارے میں لائیو مواد۔ نام الگ ہیں، دروازہ ایک ہی ہے۔
شیخ نے جو فرمایا
اللہ سے ڈریں۔ یہ جسم امانت ہیں — ہماری اپنی ملکیت نہیں۔
قیامت کے دن آپ کے ہر عضو سے، آپ کی جلد سے، ہر اس چیز سے جو حرکت کرتی ہے — سب سے پوچھا جائے گا۔ اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے اس جسم اور روح کے ساتھ کیا کیا۔
قرآن کیا کہتا ہے
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًۭا
اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی (سُورَةُ الإِسۡرَاءِ 17:36 — Fatah Muhammad Jalandhari)
کان کیا سن رہا ہے، آنکھ کیا دیکھ رہی ہے، دل کس کے پیچھے بھاگ رہا ہے — تینوں کا حساب ہوگا۔ تجسس کے نام پر جو ویڈیو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ بھی اسی فہرست میں ہے۔
آج کیا کریں
- ایسی محفلوں اور تقریبات سے آج ہی دور ہو جائیں — محض تماشائی بن کر بھی نہیں۔
- جنات کی محفلوں کے بارے میں تجسس والا مواد دیکھنا بند کریں؛ اپنی فیڈ صاف کریں۔
- کوئی متاثر ہو تو ہنسی مذاق نہیں — قرآن پڑھ کر اس کی مدد کریں۔
- پہلے گئے ہوں تو ہمت نہ ہاریں؛ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کی گفتگو کی بنیاد پر
ترجمہ و تدوین: راقی Faisal Ahmed Sabit — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔