رقیہ، حسنِ ظن، راقی کی ڈائری، صبر
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
ایک مریض آتا ہے۔ چہرہ تھکا ہوا ہے۔ کہتا ہے — روزانہ سورۃ البقرہ پڑھتا ہوں، دن میں چار پانچ پارے تلاوت کرتا ہوں، رات کو تہجد میں کھڑا ہوتا ہوں، گناہ چھوڑ دیے ہیں۔
مہینوں کے مہینے گزر گئے۔ پھر بھی کچھ نہیں بدلتا۔ شیخ سوال پر سوال کرتے ہیں — اور اندر کی بات باہر آ جاتی ہے۔ مریض سر جھکا کر کہتا ہے، “مجھے لگتا ہے میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔”
شیخ اس وقت رک جاتے ہیں۔ کیونکہ عمل (وظائف) کی فہرست میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ غلطی فہرست کے نیچے ہے، دل کے ایک کونے میں — وہاں یاس نے ڈیرا ڈال لیا ہے۔
شیخ کی بات
چوبیس گھنٹے کا پروگرام بھی کام نہیں آئے گا، اگر اللہ کے بارے میں حسنِ ظن نہ ہو — یہ یقین کہ وہ ضرور مدد کریں گے، چاہے دیر سے ہی سہی۔
ہم عمل (وظائف) گنتے ہیں، نتیجہ ڈھونڈتے ہیں، تاریخیں ملاتے ہیں۔ لیکن ممکن ہے اللہ نے آزمائش کو اسی لیے لمبا کیا ہو کہ آپ کے اندر یہی چیز پیدا ہو۔ دیر کا مطلب رد کر دینا نہیں ہے۔
دلیل — جس نے سب سے زیادہ انتظار کیا
وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں (سُورَةُ يُوسُفَ 12:87 — Fatah Muhammad Jalandhari; پوری آیت کا ترجمہ)
یہ بات یعقوب علیہ السلام نے فرمائی تھی — سال ہا سال روتے روتے بینائی کھو دینے کے بعد بھی۔ جس نے اتنا طویل انتظار برداشت کیا، وہی ناامید ہونے سے منع فرما رہے ہیں۔
آج کیا کریں
- عمل (وظائف) کم نہ کریں — آج صرف دل کی بات بدلیں۔
- دن میں کئی بار اپنے آپ کو یاد دلائیں — اللہ میرے ساتھ ہے۔
- یعقوب علیہ السلام کا جملہ زبان سے ادا کریں، خاص طور پر کمزوری کے لمحات میں۔
- نتیجے کی تاخیر کو اب رد کر دینا نہ سمجھیں — آج بس اتنی نیت کریں۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کے بیان کی بنیاد پر
ترجمہ و تالیف: راقی فیصل احمد ثابت — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
گھر میں روتے ہیں، مال میں کیوں نہیں روتے؟
وہی کٹنا، وہی درد — بس جگہ مختلف ہے۔ شیخ نے اسی ایک منظر سے سمجھا دیا کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔