رقیہ، ازدواجی زندگی، راقی کی ڈائری، صبر
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
ایک بہن روتے روتے بولیں — شوہر بیمار ہیں، روحانی مسئلہ ہے۔ وہ پلٹ کر دیکھتے بھی نہیں، بات بات پر سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔
شیخ نے انہیں ایک منظر یاد دلایا۔ شوہر گاڑی لے کر پانچ منٹ دیر کر دے تو اندر آگ بھڑک اٹھتی ہے — اتنی دیر کہاں تھے؟
حالانکہ روزانہ گھنٹوں گھنٹوں باورچی خانے میں — چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ، پیاز کی تیزی، کھڑے رہنے سے کمر کا درد۔
کوئی ذرا سی تعریف کر دے تو کہتی ہیں، “کل اور اچھا پکاؤں گی۔” چولہے کو کبھی لات مار کر گالی نہیں دیتیں۔
شیخ کی بات — توازن
جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ بیمار ساتھی کی چھوٹی چھوٹی چوٹوں کو شیطان بڑا کر کے دکھاتا ہے۔
یہ اس کی سختی کو جائز ٹھہرانا نہیں ہے — وہ بات اس کے لیے الگ ہے۔ یہ آپ کے دل کو بچانے کی بات ہے: ہر سخت بات کہیں بنیاد ہی کو نہ کھا جائے۔
دلیل — ایک عادت ناپسند ہو تو
لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ
کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ رکھے؛ اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری پسند آ جائے گی۔ (صحیح مسلم 1469)
حدیث میں بات مردوں سے کہی گئی ہے، مگر اصول دونوں طرف ہے — ایک پہلو ناپسند ہو تو دوسرے پہلو کی طرف دیکھیں۔ بیماری کے دنوں میں یہی دیکھنا گھر کو بچاتا ہے۔
آج کیا کریں
- ہر سخت بات پر خود سے کہیں — یہ وہ نہیں ہے، یہ اس کی بیماری ہے۔
- دن میں کم از کم ایک بار اپنے لیے بھی دعا کریں — آپ بھی تھکی ہوئی ہیں۔
- اپنا کھانا، نیند اور ذرا سا آرام نہ چھوڑیں۔
- شوہر کے لیے چپکے سے دعا کریں — اس کے سامنے شکایت نہ کریں۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کی گفتگو کی بنیاد پر
ترجمہ و تالیف: راقی Faisal Ahmed Sabit — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
گھر میں روتے ہیں، مال میں کیوں نہیں روتے؟
وہی کٹنا، وہی درد — بس جگہ مختلف ہے۔ شیخ نے اسی ایک منظر سے سمجھا دیا کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔