رقیہ، صبر، راقی کی ڈائری، باقاعدہ عمل
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
اس مضمون میں
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
جم میں داخل ہو کر شیخ نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ اس کا جسم گویا ٹوٹ کر گر رہا تھا، وہ ہانپ رہا تھا؛ اس کے پاس اس کا بھائی اسے تھامے ہوئے تھا، تاکہ وہ گر نہ جائے۔
پوچھنے پر معلوم ہوا — لڑکا جیو جتسو کا چیمپئن ہے۔ ہلکے وزن کی کیٹیگری میں اترنے کے لیے وہ دو مہینوں میں آٹھ کلو سے زیادہ وزن کم کر رہا ہے۔
پھر میچ سے پہلے کے دو تین ہفتوں میں کھا کر طاقت واپس لائے گا۔ سب ملا کر مہینوں تکلیف — ایک میچ کے لیے۔
شیخ نے جو فرمایا
ایک کھیل کے لیے انسان اتنا کچھ سہہ لیتا ہے۔ کیا شفا کے لیے ڈٹے رہنا اس سے زیادہ کچھ مانگتا ہے؟
شیخ نے یہ بات رمضان کی تیاری کے بارے میں کہی تھی — صحت مند جسم کے ساتھ رمضان میں داخل ہونے کے لیے کیا اتنی محنت زیادہ ہے؟ یہی سوال رقیہ کے پروگرام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
دلیل — کوشش کے ساتھ راستہ کھل جاتا ہے
وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ
اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے (سُورَةُ العَنكَبُوتِ 29:69 — Fatah Muhammad Jalandhari)
نبی کریم ﷺ — اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو باقاعدگی سے کیا جائے، چاہے وہ کم ہو۔ (صحیح بخاری 6464)
آج یہ کریں
- پروگرام کو چھوٹا رکھیں — لیکن روزانہ، ایک دن بھی خالی نہ جائے۔
- کسی دن ناغہ ہو جائے تو شروع سے نہیں — جہاں رکے تھے، وہیں سے دوبارہ شروع کریں۔
- ہفتے میں ایک دن اپنا معمول لکھ کر دیکھیں — کیا ہوا، کیا نہیں ہوا۔
- نیند، کھانا، تھوڑی سی چہل قدمی — جسم کی دیکھ بھال بھی عمل ہی کا حصہ ہے۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کی گفتگو کی بنیاد پر
ترجمہ و تدوین: راقی فیصل احمد ثابت — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
گھر میں روتے ہیں، مال میں کیوں نہیں روتے؟
وہی کٹنا، وہی درد — بس جگہ مختلف ہے۔ شیخ نے اسی ایک منظر سے سمجھا دیا کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔