رقیہ، صبر، راقی کی ڈائری، رقیہ کا طریقہ
گھر میں روتے ہیں، مال میں کیوں نہیں روتے؟
وہی کٹنا، وہی درد — بس جگہ مختلف ہے۔ شیخ نے اسی ایک منظر سے سمجھا دیا کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔
اس مضمون میں
وہی کٹنا، وہی درد — بس جگہ مختلف ہے۔ شیخ نے اسی ایک منظر سے سمجھا دیا کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
رقیہ جاری تھا۔ ایک بہن شدید چیخ رہی تھیں۔ رکنے کے بعد کہنے لگیں — میں خود کو سنبھال ہی نہیں پاتی۔
شیخ نے فرمایا، فرض کریں گھر میں آپ کا پاؤں کٹ گیا۔ آپ روئیں گے، چیخیں گے، پاؤں اوپر اٹھائیں گے، برف مانگیں گے — سب دوڑے چلے آئیں گے۔
اب اگر بالکل یہی کٹنا شاپنگ مال میں ہو جائے؟ تب آپ کہیں گے، “کچھ نہیں ہوا، میں ٹھیک ہوں۔” لوگوں کے سامنے شرم ہی آپ کو قابو رکھنا سکھا دیتی ہے۔
جو بات شیخ نے صاف طور پر فرمائی
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسئلہ نفسیاتی ہے — میں کہہ رہا ہوں کہ قابو رکھنا ممکن ہے۔ جب لوگوں کے سامنے ممکن ہے تو شیطان کے سامنے بھی ممکن ہے۔
اور چیخنے سے وہ تکلیف اور خوف کو مزید بڑھا دیتے ہیں — کیونکہ یہی ان کی چاہت ہے۔ آپ جتنا پرسکون رہیں گے، ان کا ہتھیار اتنا ہی کند ہوتا جائے گا۔
دلیل — صبر کا حساب نہیں ہوتا
إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّٰبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍۢ
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا (سُورَةُ الزُّمَرِ 39:10 — Fatah Muhammad Jalandhari; پوری آیت کا ترجمہ)
رقیہ کا جو لمحہ سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت ہو، عین اسی لمحے دانت بھینچ کر ڈٹے رہنا ہی اس آیت کا صبر ہے — اور اس کے اجر کا کوئی حساب نہیں۔
آج آپ کیا کریں
- چیخ آنے لگے تو دانت بھینچ کر ذکر جاری رکھیں۔
- سانس دھیمی کریں — ناک سے کھینچیں، منہ سے آہستہ چھوڑیں۔
- تکلیف بڑھنے پر رقیہ نہ روکیں؛ ضرورت ہو تو آواز کم کر لیں۔
- تکلیف کا بڑھنا یعنی اثر ہو رہا ہے — یہ خوف کی دلیل نہیں۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کی گفتگو کی بنیاد پر
ترجمہ و تالیف: راقی Faisal Ahmed Sabit — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔