رقیہ
دوستوں کے سامنے کر لیتے ہیں، گھر میں کیوں نہیں کر پاتے؟
آپ کی اہلیہ آپ کی شفا کے پیچھے دوڑ رہی ہیں، اور آپ گھر میں داخل ہوتے ہی سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں — توازن رکھیں، وہ آپ کے پاس امانت ہے۔
اس مضمون میں
آپ کی اہلیہ آپ کی شفا کے پیچھے دوڑ رہی ہیں، اور آپ گھر میں داخل ہوتے ہی سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں — توازن رکھیں، وہ آپ کے پاس امانت ہے۔
وہ منظر جو شیخ نے بیان کیا
کتنی ہی بیویاں شوہر کی شفا کے پیچھے دوڑ رہی ہیں — راقی کے پاس جا رہی ہیں، عمل (وظائف) کی تلاش کر رہی ہیں، رات جاگ کر دعا کر رہی ہیں۔
اور وہی شوہر گھر میں داخل ہوتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ تمام ذمہ داری بیوی کی شفقت پر چھوڑ دیتے ہیں — گھر، بچے، دوا، سب کچھ۔
حالانکہ باہر دوستوں کے ساتھ وہ خود کو بالکل سنبھالے رکھتے ہیں۔ کھاتے ہیں، ہنستے ہیں، وقت گزارتے ہیں — وہاں ٹوٹتے نہیں۔
شیخ کی سچی بات
ہاں، کچھ سحر (جادو) ایسے ہوتے ہیں جو صرف گھر کے اندر ہی اثر کرتے ہیں — یہ سچ ہے۔ لیکن بھائی، توازن رکھیں۔
وہ آپ کی شریکِ حیات ہے، آپ کے پاس امانت ہے؛ اس کا حق ہے۔ دوستوں کے سامنے آپ خود پر جتنا زور ڈالتے ہیں، گھر میں اس سے کچھ زیادہ دیں۔ سب کچھ چھوڑ نہ دیں۔
دلیل — حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی گزارنا
وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا
مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے (سُورَةُ النِّسَاءِ 4:19 — Fatah Muhammad Jalandhari; پوری آیت کا ترجمہ)
یہ آیت مشکل وقت ہی کے لیے ہے — ناپسندیدگی میں بھی اللہ بھلائی رکھ دیتا ہے۔ بیماری کے ان دنوں میں اس کے ساتھ حسنِ سلوک رکھنا ہی آپ کا بڑا عمل ہے۔
آج کیا کریں
- گھر میں داخل ہو کر پہلا جملہ نرم رکھیں — آج بس اتنا ہی۔
- دن میں ایک بار اس کا شکریہ ادا کریں — چھوٹے سے کام کے لیے بھی۔
- اپنا رقیہ خود کریں — ساری ذمہ داری اس کے کندھوں پر نہ ڈالیں۔
- اس کے لیے بھی رقیہ اور دعا کریں — وہ بھی تھک چکی ہے۔
ماخذ: شیخ خالد بن ابراہیم الحبشی (رقیہ کے ماہر) کی گفتگو کی بنیاد پر
ترجمہ و تالیف: راقی فیصل احمد ثابت — القرآن رقیہ ہیلنگ سینٹر
مزید پڑھیں
مایوسی دل میں لے کر علاج نہیں ہوتا
مہینوں کے مہینے عمل (وظائف) جاری رکھنے کے باوجود بہتری نظر نہ آئے تو دل میں ایک بات جم جاتی ہے — میرا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ شیخ فرماتے ہیں، یہی بات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایک میچ کے لیے اتنی تکلیف؟
لڑکا ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا — پھر بھی دو مہینے سے وزن کم کر رہا ہے، صرف ایک کھیل کے لیے۔ شیخ کا سوال ہے — شفا کے لیے ہم کتنا کر سکتے ہیں؟
چولہے کو تو کوئی لات نہیں مارتا
چولہے کی تپش، تیل کے چھینٹے، چھری کے کٹ — سب کچھ آپ ہنستے چہرے کے ساتھ سہہ جاتی ہیں۔ شیخ نے وہیں سے فرمایا، جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں تکلیف تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔