صدقہ، رقیہ، حدیث کی جانچ
تین واقعات، ایک راوی: شیخ سلیمان المفرّج
«من عجائب العلاج بالصدقة» (صدقے سے علاج کے حیرت انگیز واقعات) نامی کتاب کے اٹھارہ واقعات میں سے اکثر بالکل گمنام ہیں — نہ کوئی نام، نہ کوئی حوالہ۔ لیکن تین
اس مضمون میں
- واقعہ 1: بیٹی کے گلے کی لاعلاج بیماری اور ایک بڑی رقم کا صدقہ
- واقعہ 2: بھائی کا اچانک بے ہوش ہو جانا اور سات ہزار ریال کا صدقہ
- واقعہ 3: چھوٹی بیٹی کا بخار اور 20 بوری چاول، 20 کارٹن مرغیاں
- راوی کون ہے؟ شیخ سلیمان المفرّج کی شناخت اور جانچ
- درست درجہ بندی: ماخذ درست ہے، لیکن واقعات کی جانچ ممکن نہیں
- حوالہ جات
- کتاب کے اپنے ماخذ کا ذکر
- دیگر قابلِ اعتماد ذرائع
«من عجائب العلاج بالصدقة» (صدقے سے علاج کے حیرت انگیز واقعات) نامی کتاب کے اٹھارہ واقعات میں سے اکثر بالکل گمنام ہیں — نہ کوئی نام، نہ کوئی حوالہ۔ لیکن تین واقعات اس بھیڑ سے ذرا الگ نظر آتے ہیں، کیونکہ ان تینوں میں کتاب صاف بتاتی ہے کہ یہ واقعات کس سے آئے ہیں — "شیخ سلیمان المفرّج" نامی ایک شخص، جنہوں نے خود واقعے کے "مالک" یعنی جس کے ساتھ واقعہ پیش آیا تھا، اسی سے براہِ راست سنا اور پھر لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ اس تحریر میں وہ تینوں واقعات پیش کیے گئے ہیں، اور پھر وضاحت کی گئی ہے کہ آزادانہ تحقیق میں اس "شیخ" کی شناخت کے بارے میں دراصل کیا ملا، اور اس کی دلیل کے طور پر کتنی حیثیت ہے۔
واقعہ 1: بیٹی کے گلے کی لاعلاج بیماری اور ایک بڑی رقم کا صدقہ
کتاب میں اس واقعے کا عنوان ہے "آٹھواں واقعہ: صدقے کی وجہ سے اللہ نے ان کی بیٹی کو شفا دی"۔ کتاب لکھتی ہے: "شیخ سلیمان المفرّج — اللہ انہیں توفیق دے — کہتے ہیں: یہ واقعہ مجھے اس کے مالک نے خود سنایا ہے۔"
اس شخص نے بتایا کہ ان کی ایک چھوٹی بیٹی تھی جسے گلے میں ایک بیماری لگ گئی تھی۔ بہت سے ہسپتالوں اور بہت سے ڈاکٹروں کے پاس جانے کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہوا — بیماری لاعلاج ہو گئی، اور بچی کی تکلیف سے پورے گھر والوں کی نیند اڑ گئی۔ صرف درد کم کرنے کے لیے اسے بار بار انجیکشن لگانے پڑ رہے تھے۔ ایسے میں ایک نیک شخص نے انہیں فون کر کے رسول اللہ کی حدیث سنائی ﷺ — "اپنے مریضوں کا علاج صدقے سے کرو" (داووا مرضاكم بالصدقة)۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو پہلے ہی بہت صدقہ کرتے ہیں۔ تب اس نیک شخص نے کہا کہ اب نیت کر کے بیٹی کی شفا کے لیے صدقہ کرنا ہوگا۔ پہلی بار انہوں نے ایک غریب آدمی کو معمولی سا صدقہ دیا — کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ دوسری بار ان سے کہا گیا کہ اپنی دولت کے مطابق صدقہ دیں۔ اس بار انہوں نے اپنی گاڑی چاول، مرغیوں اور طرح طرح کے کھانے پینے کے سامان سے بھر لی، اور بہت سے غریب لوگوں میں تقسیم کر دی۔ وہ خود حیران ہو کر کہتے ہیں — انہیں احساس ہی نہ ہوا کہ ان کی بیٹی نے جو آخری انجیکشن لگوایا تھا، وہی ان کے صدقے سے ٹھیک پہلے کا انجیکشن تھا؛ اس کے بعد بچی مکمل شفایاب ہو گئی۔ کتاب مزید بتاتی ہے کہ واقعے کے وقت بچی کی عمر تین سال تھی اور اسے اور کوئی بیماری نہ تھی۔
واقعہ 2: بھائی کا اچانک بے ہوش ہو جانا اور سات ہزار ریال کا صدقہ
کتاب کا "دسواں واقعہ: وہ نظرِ بد کا شکار ہوئے، تو اللہ نے انہیں صدقے کے ذریعے شفا دی" — یہاں بھی کتاب لکھتی ہے: "شیخ مزید کہتے ہیں: یہ ایک اور واقعہ ہے جو مجھے اس کے مالک نے بتایا ہے۔"
راوی بتاتے ہیں کہ ان کے بھائی ایک دن کہیں جا کر سڑک پر کھڑے تھے کہ بغیر کسی شکایت کے اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے — "گویا ان کے سر میں بندوق کی گولی چلائی گئی ہو"۔ گھر والوں نے پہلے سوچا کہ شاید نظرِ بد لگ گئی ہے، یا کینسر کی رسولی ہے، یا دماغ میں خون جم گیا ہے۔ کئی ہسپتالوں اور کلینکوں میں معائنے اور ایکسرے کروائے گئے، لیکن سر میں کوئی خرابی نہ ملی — حالانکہ شدید درد کی وجہ سے مریض نہ سو پا رہے تھے اور نہ سانس لے پا رہے تھے۔ راوی نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ ان کے پاس رقم ہے یا نہیں جو ان کی طرف سے صدقہ کر دی جائے۔ بھائی راضی ہو گئے۔ پھر انہوں نے تقریباً سات ہزار ریال نکلوا کر ایک ایسے نیک شخص کو فون کیا جو غریبوں کو جانتے ہیں، تاکہ وہ رقم ان میں تقسیم کر دی جائے۔ راوی اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں — ان کے بھائی اسی دن، بلکہ غریبوں تک رقم پہنچنے سے بھی پہلے، بیماری سے شفایاب ہو گئے۔
واقعہ 3: چھوٹی بیٹی کا بخار اور 20 بوری چاول، 20 کارٹن مرغیاں
تیسرا واقعہ کتاب میں "گیارہواں واقعہ: ان کی چھوٹی بیٹی بخار میں مبتلا ہوئی، تو اللہ نے ان کے صدقے کے ذریعے اسے شفا دی" کے عنوان سے آیا ہے، اور یہاں بھی وہی حوالے کا جملہ ہے: "شیخ مزید کہتے ہیں: یہ ایک اور واقعہ ہے جو مجھے اس کے مالک نے بیان کیا ہے۔"
راوی بتاتے ہیں کہ ان کی چھوٹی بیٹی بخار اور تپش میں مبتلا تھی، اور اس نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔ کئی طبی مراکز میں لے جانے کے بعد بھی درجۂ حرارت کم نہ ہوا، بلکہ حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ پریشان ہو کر گھر لوٹنے کے بعد ان کی بیوی نے مشورہ دیا کہ بیٹی کی طرف سے صدقہ کریں۔ انہوں نے غریبوں سے رابطہ رکھنے والے ایک شخص کو فون کر کے کہا کہ وہ مسجد میں عصر کی نماز پڑھتے ہی ان سے 20 بوری چاول اور 20 کارٹن مرغیاں لے کر ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں۔ راوی اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ بڑھا چڑھا کر نہیں کہہ رہے — فون کا ریسیور رکھنے کے صرف پانچ منٹ بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کی چھوٹی بیٹی دوڑ رہی ہے، کھیل رہی ہے، صوفے پر کود رہی ہے — وہ مکمل شفایاب ہو چکی تھی۔
راوی کون ہے؟ شیخ سلیمان المفرّج کی شناخت اور جانچ
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ کتاب کہیں بھی اس باپ، اس بھائی یا اس خاندان کا نام نہیں بتاتی۔ تینوں واقعات میں ایک ہی مقررہ جملہ بار بار آتا ہے: "شیخ ... کہتے ہیں: ... یہ مجھے اس کے مالک نے بتایا/سنایا/بیان کیا ہے۔" یعنی سلسلے کا صرف ایک ہی مستقل، نام والا حصہ ہے — جمع کرنے والا/راوی خود، شیخ سلیمان المفرّج۔
اس سلسلے کے تحقیقی مرحلے میں اسی نام کو آزادانہ طور پر جانچنے کی کوشش کی گئی تھی، اور نتیجہ واضح ہے۔ بالکل یہی تین واقعات — انہی مخصوص اعداد کے ساتھ اور تقریباً ہو بہو عربی زبان میں — saaid.org/rasael/345.htm کے پتے پر ملے ہیں، جو شیخ سلیمان المفرّج کا اپنا شائع کردہ مضمون/رسالہ ہے۔ وہاں گلے کی بیماری کے واقعے میں "لي بنت صغيرة أصابها مرض في حلقها..." (میری ایک چھوٹی بیٹی ہے، اسے گلے میں ایک بیماری لگ گئی ہے...) والا جملہ ہو بہو ملتا ہے۔ بھائی کے واقعے میں "سقط مغشياً عليه و كأنه رمي بطلقة من بندقية على رأسه...سحبت ما يقارب السبعة آلاف ريال" (وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا، گویا اس کے سر میں بندوق کی گولی چلائی گئی ہو... میں نے تقریباً سات ہزار ریال نکلوائے) — یہ جملہ بھی تقریباً ہو بہو ملتا ہے۔ چھوٹی بیٹی کے بخار کے واقعے میں "اشتكت طفلتي من الحمى و الحرارة...تأخذ مني 20 كيس أرز و 20 كرتون دجاج" (میری چھوٹی بیٹی بخار اور تپش میں مبتلا تھی... مجھ سے 20 بوری چاول اور 20 کارٹن مرغیاں لے لیں) — یہ بیان بھی انہی اعداد کے ساتھ ملتا ہے۔
صرف یہی نہیں — گلے کی بیماری کا واقعہ "جواهر العلم" (جواہر العلم) نامی ایک ایکس/ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی الگ سے نقل کیا ہوا ملا ہے، اور وہاں صاف لکھا ہے: "الشيخ / سليمان المفرج – وفقه الله –" (شیخ سلیمان المفرّج، اللہ انہیں توفیق دے)۔ یعنی اس کتاب سے باہر دو بالکل الگ مقامات — ایک ان کی اپنی شائع کردہ سائٹ، اور دوسرا ان کا نام لے کر نقل کرنے والا سوشل میڈیا اکاؤنٹ — ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں: یہ تینوں واقعات واقعی شیخ سلیمان المفرّج کے جمع کردہ اور شائع کردہ مواد سے آئے ہیں۔ کتاب کا حوالہ گھڑا ہوا نہیں، نہ ہی غلط شخص کے نام لگایا گیا ہے — یہ درست ہے۔
درست درجہ بندی: ماخذ درست ہے، لیکن واقعات کی جانچ ممکن نہیں
یہاں دو الگ سوالوں کو آپس میں گڈمڈ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلا سوال: "کتاب نے جن کے نام یہ واقعات منسوب کیے ہیں، کیا انہوں نے واقعی یہ کہے یا لکھے ہیں؟" — اس کا جواب ہاں ہے، اور اب یہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہے۔ دوسرا سوال: "کیا اس باپ، اس بھائی اور اس خاندان کے ساتھ واقعی یہ واقعات پیش آئے تھے یا نہیں، اور ٹھیک اسی طرح پیش آئے تھے یا نہیں؟" — اس کے جواب میں کوئی آزاد دلیل موجود نہیں۔ شیخ المفرّج خود بھی ان واقعات کے عینی شاہد نہیں — وہ ایک جمع کرنے والے ہیں، جنہوں نے دوسروں کے منہ سے سنی ہوئی بات لکھ رکھی ہے۔ اور جن کے منہ سے انہوں نے سنا، وہ کبھی نام سے معروف نہیں ہوئے — "اس کے مالک" کے سوا ان کی کوئی اور شناخت نہ کتاب میں ہے اور نہ saaid.org کے مضمون میں۔
اسی لیے ان تینوں واقعات کو درجہ B دیا گیا ہے — حوالہ درست طور پر بیان ہوا ہے، اور وہ حوالہ جاتی دستاویز (saaid.org کا اصل مضمون) آزادانہ طور پر ڈھونڈی اور تصدیق کی جا سکی ہے، لیکن واقعے کا اصل مواد خود گمنام گواہی ہی رہتا ہے۔ یہ درجہ اس سلسلے کے دوسرے دو قسم کے واقعات کے بالکل بیچ میں کھڑا ہے۔ ایک طرف کتاب کے نو بالکل گمنام واقعات ہیں (درجہ D) — جن میں "ذکر کیا جاتا ہے" یا "ایک شخص کہتا ہے" کے سوا کوئی حوالہ ہی نہیں، اور کہنے والا کون ہے یہ بھی نامعلوم ہے۔ یہ تین واقعات ان سے زیادہ مضبوط ہیں، کیونکہ کم از کم جمع کرنے والے کا نام معلوم ہے اور اس نام کی آزادانہ تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسری طرف حاکم ابو عبداللہ اور ابن المبارک کے دو واقعات ہیں (درجہ A/B) — جو امام بیہقی اور امام ذہبی جیسے کلاسیکی تاریخی کتابوں میں صدیوں سے درج ہیں اور متعدد آزاد ماخذوں میں نقل ہوئے ہیں۔ وہ دونوں واقعات ان تینوں سے زیادہ مضبوط ہیں، کیونکہ ان کا حوالہ ایک مستند تاریخی کتاب ہے جو صدیوں کی آزمائش سے گزر کر آئی ہے — جبکہ یہاں کا حوالہ ایک معاصر داعی کی اپنی جمع کردہ حالیہ آن لائن اشاعت ہے۔
سیدھی بات یہ ہے — "ایک حقیقی، قابلِ شناخت دینی معلم نے واقعی یہ بیانات جمع کر کے شائع کیے ہیں" — یہ ایک طرف تو "یہ محض انٹرنیٹ کی ایک افواہ ہے" کہنے سے بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہاں ایک حقیقی، قابلِ تصدیق نام اور اشاعت موجود ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ "ایک کلاسیکی کتاب میں درج تاریخی معلومات کی طرح یقینی" ہونے کے برابر نہیں، کیونکہ واقعات کے اصل کرداروں نے کبھی اپنا نام ظاہر نہیں کیا اور ان کی بات کی صداقت جانچنے کا کوئی اور آزاد طریقہ موجود نہیں۔ شیخ سلیمان المفرّج پر یہاں کوئی شک نہیں کیا جا رہا — بلکہ الٹا، ان کی سچائی اور شناخت کی تصدیق ہونے کی وجہ سے ہی یہ واقعات "گمنام افواہ" سے ایک درجہ اوپر آ جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو انہوں نے سنا، اور جو سنی سنائی بات ہو، وہ کبھی عینی شاہد کی گواہی کے برابر دلیل نہیں بن جاتی۔ لہٰذا ان تینوں واقعات کو بالکل ویسا ہی پڑھنا چاہیے جو یہ ہیں — ایک معروف، قابلِ اعتماد داعی کے ہاتھوں جمع اور شائع کی ہوئی دینی گواہی، نہ کہ طبی یا تاریخی طور پر ثابت شدہ کوئی واقعہ۔
ایک قاری کے طور پر عملی طور پر اس کا کیا مطلب ہے؟ ان تین واقعات کو سنتے یا پڑھتے وقت ایک مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ انہیں ایک معروف، قابلِ اعتماد داعی کی مرتب کردہ نصیحت آموز گواہی کے طور پر قبول کرے — بالکل اسی طرح جیسے کسی معروف عالم کی زبان سے سنا ہوا کوئی بھی نصیحت آمیز واقعہ قبول کیا جاتا ہے۔ لیکن انہیں "صدقے سے بیماری ٹھیک ہوتی ہے" کے دعوے کی قطعی دلیل کے طور پر، یا ان اعداد کو (7،000 ریال؛ 20 بوری چاول اور 20 کارٹن مرغیاں) کسی یقینی اعداد و شمار کے طور پر پیش کرنا درست نہ ہوگا — کیونکہ یہ ایک ہی گمنام شخص کی اپنی یادداشت سے بیان کیے گئے ہیں، اور آزادانہ طور پر دوبارہ جانچے نہیں گئے۔ حوالے اور واقعے — ان دونوں کو الگ رکھ کر پڑھنا ہی یہاں سب سے دیانت دارانہ راستہ ہے۔
حوالہ جات
کتاب کے اپنے ماخذ کا ذکر
- آٹھویں واقعے (بیٹی کے گلے کی بیماری)، دسویں واقعے (بھائی کا بے ہوش ہونا اور سات ہزار ریال)، گیارہویں واقعے (بچی کا بخار) — تینوں میں کتاب حوالے کے طور پر کہتی ہے: "شیخ سلیمان المفرج — اللہ انہیں توفیق دے — کہتے ہیں: یہ واقعہ مجھے اس کے مالک نے خود سنایا/بتایا/بیان کیا ہے۔"
دیگر قابلِ اعتماد ذرائع
- saaid.org/rasael/345.htm — شیخ سلیمان المفرج کا اپنا شائع کردہ مضمون/رسالہ، جس میں تینوں واقعات تقریباً بالکل ویسے ہی عربی زبان میں اور انہی مخصوص اعداد کے ساتھ (7، 000 ریال؛ 20 بوری چاول اور 20 کارٹن مرغیاں) ملے ہیں۔
- ایکس/ٹوئٹر اکاؤنٹ "جواهر العلم" (جواہر العلم) — گلے کی بیماری کے واقعے کو الگ سے نقل کر کے صراحت کے ساتھ "الشيخ / سليمان المفرج – وفقه الله –" (شیخ سلیمان المفرج) کے نام سے منسوب کیا ہے، کتاب سے کسی تعلق کے بغیر۔
- فورم تھریڈ "قصص واقعية مؤثرة في بيان أثر الصدقة" اور hawamer.com فورم — انہی تینوں واقعات کی دوبارہ اشاعت، لیکن یہ بنیادی طور پر al-Mufarrij کی اسی اصل تحریر کی نشرِ مکرر ہیں، بالکل الگ کوئی نیا ذریعہ نہیں۔
قابلِ ذکر: اوپر کے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کتاب کا حوالہ (شیخ سلیمان المفرج) درست ہے۔ یہ واقعے کی اندرونی صداقت (والد، بھائی یا خاندان کے حقیقی تجربے) کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتے — کیونکہ وہ لوگ کبھی نام سے معروف نہیں ہوئے۔
یہ تحریر «من عجائب العلاج بالصدقة» کتاب میں بیان کردہ واقعات اور ان واقعات کے آزادانہ ماخذی جائزے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
صدقے سے مریض کا علاج: ایک تمہید اور پانچ مختلف دعوے
آپ نے یقیناً کبھی نہ کبھی سنا یا پڑھا ہوگا — "صدقے سے بیماری ٹھیک ہوتی ہے"، "کچھ لوگ کینسر سے صدقے کے ذریعے شفایاب ہوئے ہیں"، "صدقہ کرو، اللہ بیماری دور کر
کیا ابن القیم نے واقعی صرف صدقے کی بات کہی تھی؟
«من عجائب العلاج بالصدقة» (صدقے سے علاج کی حیرت انگیز نشانیاں) نامی کتاب میں امام ابن القیم rahimahullah کے دو بہت معروف اقتباسات استعمال کیے گئے ہیں — ایک
کیا صدقہ رقیہ یا ڈاکٹر کا متبادل ہے؟
جب کسی سنگین بیمار کے گھر کا کوئی فرد یہ تحریر پڑھ رہا ہو، تو سب سے پہلے جو بات اسے سننی چاہیے، اسی سے آغاز کرتے ہیں — صاف اور دوٹوک الفاظ میں۔