پڑھنے کا اندازاً وقت: 8 منٹ
‘میں نے یہ نہیں کہا’ — حالانکہ گھر بھر کے لوگوں نے سنا ہے کہ اس نے کہا ہے۔ کچھ وقت کی باتیں اسے یاد ہی نہیں۔ ایسی حالت میں گھر والے دو انتہاؤں پر چلے جاتے ہیں: یا تو ہر چیز کو جنات کا اثر سمجھ لیتے ہیں، یا پھر سرے سے انکار کر کے مریض کو اداکار بنا دیتے ہیں۔ دونوں نقصان دہ ہیں۔
قرآن کا اعتراف
قرآن نے شیطان کے چھونے سے انسان کی حالت کا ذکر سیدھے الفاظ میں کیا ہے۔ یہ استعارہ نہیں ہے — اکثر مفسرین نے اسے لفظی معنی میں ہی لیا ہے۔
سُورَةُ البَقَرَةِ 2:275
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَوٰا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَوٰا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَوٰا ۚ فَمَن جَاءَهُۥ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ فَانتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولٰئِكَ أَصْحٰبُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خٰلِدُونَ ۲۷۵
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے
سود خور کی حالت کے بیان میں جنات کے چھونے سے بدحال شخص کی مثال۔
لیکن اعتراف کا مطلب ہر چیز کی توجیہ نہیں
یادداشت کا بگڑنا، اچانک شخصیت بدل جانا، اپنے آپ پر قابو کھو دینا — یہ علامات شیزوفرینیا، بائی پولر ڈس آرڈر، مرگی، بلکہ کچھ اعصابی امراض میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ان کا علاج موجود ہے، اور وہ علاج کارگر ہوتا ہے۔
کسی مریض کو برسوں صرف رقیہ پر رکھ کر علاج سے دور رکھنا — یہ مدد نہیں، نقصان ہے۔ اور اس کے برعکس بات بھی سچ ہے: تمام دوائیں چلتے رہنے کے باوجود اگر ایک خاص قسم کا ردعمل قرآن سنتے وقت ہی بار بار ہو، تو اسے اڑا دینے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔
رقیہ کیا ہے، اور کیا نہیں
رقیہ شرعیہ کا مطلب ہے اللہ کے کلام، اس کے اسماء و صفات اور صحیح دعاؤں سے علاج۔ بس یہی۔ اس میں جنات سے گفتگو نہیں، اس کا نام اور مذہب پوچھنا نہیں، اس سے کوئی کام کروانا نہیں۔
یہ حد بہت اہم ہے، کیونکہ لوگ ٹھیک یہیں سے پھسلتے ہیں۔ جنات کے ساتھ لین دین شروع ہو جائے تو وہ علاج نہیں رہتا — مدد مانگنے کا تعلق بن جاتا ہے، اور وہ راستہ شرک پر جا کر ختم ہوتا ہے۔
مریض کے منہ سے کوئی بولے تو اس سے بات چیت جمانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کہا جاتا ہے اس کے سچ ہونے کی بھی کوئی ضمانت نہیں — جھوٹ بولنا ان کی عادت ہے۔
گھر والوں کا کردار
مریض کو اکیلا نہ چھوڑیں، اور اسے قصوروار بھی نہ ٹھہرائیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اس کا قابو نہیں — یہ بات گھر والوں کا سمجھنا ضروری ہے، ورنہ علاج سے زیادہ توہین ہوتی ہے۔
گھر کا ماحول درست کرنا رقیہ کا آدھا کام ہے۔ باقاعدہ نماز، گھر میں قرآن کی تلاوت، صبح و شام کے اذکار — ان کے بغیر صرف سیشن پر بھروسا کرنے سے بہتری قائم نہیں رہتی۔
اور صبر۔ اس قسم کے مسائل میں بہتری عموماً آہستہ آتی ہے، اتار چڑھاؤ کے ساتھ۔ چند ہفتوں میں نتیجہ نہ دیکھ کر راقی بدلتے رہنے سے کوئی علاج مکمل نہیں ہوتا۔
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ 17:82
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ۸۲
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے
قرآن خود مومن کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
وہ غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
- ذہنی یا اعصابی بیماری کا علاج بند نہ کریں۔
- مریض کے منہ سے کہی گئی باتوں سے بات چیت نہ جمائیں، اور ان پر یقین بھی نہ کریں۔
- جنات سے کوئی کام کروانے کی کوشش نہ کریں — یہ علاج نہیں ہے۔
- مریض کو مارپیٹ نہ کریں اور نہ زنجیر میں باندھیں؛ یہ تشدد ہے، رقیہ نہیں۔
جنات کا مَس قرآن سے ثابت ہے، لیکن ہر غیر معمولی کیفیت کا نام جن نہیں۔ علاج جاری رکھیں، رقیہ جاری رکھیں، حد سے تجاوز نہ کریں — اور مریض کے ساتھ رہیں۔ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن کے معانی کا ترجمہ: Fatah Muhammad Jalandhari (quran.com کے ذریعے).