پڑھنے کا اندازاً وقت: 7 منٹ
تین بار رشتہ پکا ہو کر ٹوٹ گیا۔ نوکری کا انٹرویو اچھا ہوتا ہے، مگر بلاوا نہیں آتا۔ کاروبار شروع ہوتے ہوتے رک جاتا ہے۔ اس تجربے سے یہ سوال فطری طور پر آتا ہے — کیا میرے اوپر کچھ کیا گیا ہے؟ سوال درست ہے۔ لیکن جواب تک پہنچنے کا ایک ضابطہ ہے۔
سحر حقیقت ہے — قرآن نے خود بتایا ہے
جادو کوئی خیالی چیز نہیں۔ قرآن نے صاف بتایا ہے کہ جادوگر ایسا علم سیکھتے ہیں جس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی جاتی ہے — ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
سُورَةُ البَقَرَةِ 2:102
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هٰرُوتَ وَمٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى الْءَاخِرَةِ مِنْ خَلٰقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِۦ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۱۰۲
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
سحر کا وجود بھی اور اس کی حد بھی — دونوں ایک ہی آیت میں ہیں۔
گرہوں والی آیت
سورۃ الفلق میں ‘گرہوں میں پھونکنے’ کے شر سے پناہ مانگنے کو کہا گیا ہے۔ یہی ایک آیت سمجھا دیتی ہے کہ بندش والی قسم کا جادو ایک حقیقی چیز ہے، اور اس کا علاج بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔
سُورَةُ الفَلَقِ 113:4
وَمِن شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الْعُقَدِ ۴
اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے
گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کے شر سے پناہ۔
لیکن پہلے عام اسباب کو الگ کر لیں
رشتہ ٹوٹنے کا سب سے عام سبب سحر نہیں — جہیز کی سودے بازی، گھر والوں کی رضامندی کا نہ ہونا، چھان بین کے بعد ناپسندیدگی۔ نوکری نہ ملنے کا سب سے عام سبب مقابلہ، سی وی، یا رابطوں کی کمی ہے۔
ایک راقی کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ ان عام اسباب کو پہلے دیانت داری سے جانچے بغیر رقیہ شروع کرنے سے لوگ دو چیزیں کھو دیتے ہیں — وقت، اور مسئلے کو اصل میں حل کرنے کا موقع۔
شریعت بھی یہی سکھاتی ہے۔ اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔ اونٹ باندھ کر پھر بھروسا کرنے والی بات یہاں پوری طرح لاگو ہوتی ہے۔
سحر کا امکان کب بڑھتا ہے
جب رکاوٹ غیر معمولی طور پر مسلسل ہو — ہر بار الگ سبب سے، مگر نتیجہ ایک ہی۔ جب فیصلے کے وقت متعلقہ لوگوں کا رویہ اچانک اور بغیر کسی وضاحت کے بدل جائے۔ جب ساتھ جسمانی علامات بھی ہوں — ڈراؤنے خواب، سینے پر بوجھ، عبادت میں غیر معمولی سستی۔
یہ بھی یقینی ثبوت نہیں، لیکن بہت سی علامات ایک ساتھ ہوں تو رقیہ شروع کرنا معقول ہے۔
جو نہیں کرنا چاہیے
جادو کا شک ہو تو سب سے بڑا خطرہ علاج میں نہیں، علاج کے غلط راستے میں ہے۔ ‘جادو کاٹ دوں گا’، ‘بتا دوں گا کس نے کیا ہے’، ‘اسی پر لوٹا دوں گا’ — ان تینوں وعدوں میں سے کوئی بھی ایک سنیں تو وہاں سے اٹھ کر آ جانا چاہیے۔
جادو سے جادو کاٹنا (نشرہ) حرام ہے۔ جادو لوٹانے کا عمل خود جادو ہے۔ اور غیب کی خبر دینے کا دعویٰ سیدھا شریعت کی حد سے تجاوز ہے۔ جائز راستہ صرف ایک ہے — اللہ کا کلام، صحیح دعائیں، اور صبر۔
وہ غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
- پہلے عام اور حقیقی اسباب کو دیانت داری سے جانچیں۔
- ‘جادو لوٹا دینے’ یا ‘کس نے کیا ہے بتا دینے’ والے کسی کے پاس نہ جائیں۔
- تعویذ، کڑا، دھاگا یا نقش نہ لیں۔
- رقیہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ کوشش اور اسباب کو نہ چھوڑیں۔
سحر حقیقت ہے، لیکن ہر رکاوٹ کا نام سحر نہیں۔ سبب ایمانداری سے تلاش کریں، علاج شریعت کے اندر رہ کر کریں، اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیں۔ وہ جو کچھ کھول دیتا ہے، اسے کوئی باندھ نہیں سکتا۔
قرآن کے معانی کا ترجمہ: Fatah Muhammad Jalandhari (quran.com کے ذریعے).